وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک کا پالیسی فیصلوں کا دفاع، سیاسی دباؤ مسترد

وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ وہ کسی بھی صورت ریاست کو نقصان نہیں ہونے دیں گے چاہے ان پر کتنی ہی تنقید کیوں نہ کی جائے۔
اسلام آباد میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے پیٹرولیم شعبے کی ضابطہ بندی کے خاتمے، سبسڈی اور سیاسی مخالفت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ایندھن کی قیمتوں پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔
انہوں نے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کا احترام کرتے ہیں لیکن ان کی جماعت کی جانب سے غیر ضروری شور مچایا جا رہا ہے۔
وزیر نے بتایا کہ وزیر اعظم سے مشاورت کے بعد پیٹرول پر عائد لیوی میں اسی روپے کمی کی گئی ہے جبکہ ڈیزل پر لیوی مکمل طور پر ختم کر دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی کے باعث روزانہ نئی صورتحال سامنے آتی ہے جو معیشت کے لیے مشکلات پیدا کرتی ہے۔
علی پرویز ملک نے اس بات کی تائید کی کہ پیٹرولیم شعبے کو آزاد کیا جانا چاہیے اور حکومت اس عمل کو اس انداز میں آگے بڑھا رہی ہے کہ عوام کو مشکلات نہ ہوں۔
انہوں نے واضح کیا کہ ریلیف صرف مستحق افراد کے لیے ہوگا اور امیر طبقے کو سبسڈی نہیں دی جا سکتی، جبکہ کابینہ کے چھ ماہ کی تنخواہیں قومی خزانے میں جمع کرانے کے فیصلے کو بھی درست قرار دیا۔
- رحیمہ بی بی کیس نے بلوچستان میں منظم بھرتی اور سرحد پار سہولت کاری کے نیٹ ورک کو بے نقاب…1 گھنٹہ پہلے
- رحیمہ بی بی کیس نے بلوچستان میں منظم بھرتی اور سرحد پار سہولت کاری کے نیٹ ورک کو بے نقاب…1 گھنٹہ پہلے










